
کیاوقف بورڈاوقاف تحفظ کیلئےضلع انتظامیہ کی غیر قانونی کارروائی پرروک لگائےگا؟
وقف ویلفیئرفورم نے وقف بورڈاور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کو غیرقانونی کارروائی پر خط لکھا
لکھنؤ/دیوریا(وقف ٹوڈے):دیوریامیںواقع مزارمزار عبد الغنی شاہ بابا و قبرستان ضلع دیوریا ، تحصیل صدرجس کا وقف نمبر 19، خسرہ نمبر -1647/2رقبہ :0.120ہیکٹیئر)اترپردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ اورریونیو ریکارڈ میں یہ مزاردفعہ 30؍ میں1954؍سے ہی اندراجہے۔اس طویل سالہ قدیمی مزارکے پرانے ریکارڈ کودیکھے بغیرآناًفاناً غیر قانونی قرار دے کر انتظامیہ نےبلڈوزرکے ذریعہ انہدامی کارروائی کرتے ہوئے مزار کومنہدم کر دیااور یہیں پر واقع مسجد کو انہدام کرنے کی تیاری میں ہے۔
اس سلسلے میں وقف ویلفیئر فورم نے اترپردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ کوخط لکھ کر آناًفاناًکی گئی غیر قانونی انہدامی کارروائی میں شامل انتظامیہ افسران کےخلاف قانونی کارروائی کے لئے سفارش کیا اورساتھ ہی ساتھ نیشنل ہیومن کمیشن کو بھی درخواست بھیجا ہے۔
غور طلب ہے کہ اترپردیش ریاست کے بہت اضلاع میں جیسے سنبھل ، وارانسی، فتح پور، دیوریاوغیرہ سرکار کی سہ پر قدیم عبادت گاہوں کو اس بنیاد پر منہدم کیا جارہا ہے کہ سرکاری یا غیر قانونی زمینہے۔جبکہ سپریم کورٹ نے 16؍ستمبر 2025 کے اپنے فیصلے میں یہ واضح کر دیا تھا کہ 5؍اپریل 2025 سے پہلے رجسٹرڈوقف املاک بائی یوزر/بائی ڈیڈوقف مانا جائے گااور اس پر کسی طرح کی کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ اس لئےان وقف جائیدادیں وقف امونمنٹ ایکٹ 2025کے مطابق پرسپیکٹیوہے(قانون لاگو ہے) ۔لہٰذاسرکار جو غلط منشا سے ان زمینوں میں سے کچھ کو بنجر، اوسرپرتی یاسرکاری زمین پہ قائمعبادت گاہوں کو غیر قانونی ماننا موجودہ ایکٹ اور سمبدھان کے خلاف ہے۔
وقف کی حفاظت کیلئے کیاایسے متولیان جووقف بورڈ کی نگرانی میں قانونی مدد لیئےبغیرضلع انتظامیہ کےسامنے سیرینڈر کرجاتے ہیںاور وقف املاک پر بلڈوزر چلانے کی اجازت دیتے ہیں ایسے متولیان پر بورڈ کو کارروائی کرنا چاہئے تاکہ وقف املاک کی حفاظت ہو سکے۔
وقف ویلفیئر فورم کی جانب سے وقف بورڈ کو صلاح ہے کہ ریاست میں وقف املاک کی منہدم کئے جانے کے خلاف بورڈ کو ایک ایسا ہیلپ ڈیسٹ قائم کرنا چاہئے جس میں متولیان ، ٹرسٹ ،سوسائٹی ،عوام،پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا کے ذریعہ ملی جانکاری کی بنیاد پر فوراًاحتیاطی پہل کے اقدامات کرے۔



